سبق ۱  : رسک کمیو نیکیشن  کے بنیادی تصورات

موضوع .۱ : فریم ورک ، اصطلاحات اور تعریفیں

موضوع ایک(۱) میں آپ رسک کمیو نیکیشن  کی مختلف تعریفوں سے واقف ہوجائیں گے۔آپ یہ بھی سیکھیں گے کہ اگر رسک کمیو نیکیشن  صرف حقائق پیش کرتی ہے اور رسک کے بارے میں عوامی تاثر پر توجہ دینے میں ناکام ہو جاتی ہے تو اسکی قبولیت نا مکمل اور عام طور پر غیر مؤثر ہے۔اس موضوع میں رسک انالیسیز  سے متعلق تینوں اجزاء کے باہمی تعلق، اور ہر ایک کے علیحدہ کردار کی بھی وضاحت ہوگی۔

مقاصد:

  • رسک کمیو نیکیشن  کی وسیع تعریف بتانا
  • رسک کمیو نیکیشن  کی دوسری تعریفوں کے ساتھ موازنہ اور تضاد
  • رسک اسیسمنٹ ، رسک مینجمنٹ اور رسک کمیو نیکیشن  کے درمیان تعلق کی وضاحت

امریکن ہسٹری میں بڑی صنعتوں اور ریگولیڑی ایجنسیز کی رِسک کمیونیکشن کا آغاز ۱۹۷۰ کے آخر میں ہوا۔ اس عرصہ کے دوران نیوکلیٔر اور کیمیکل صنعتیں پبلک کے صنعتی رسکس سے متعلق تحفضات سے نمٹنے کی کوشش کر رہیں تھیں۔ یہ صنعتیں یقین رکھتی تھیں کہ غیرمبہم اور قابل فہم معلومات پبلک کو یہ باور کرانے کے لیے کافی ہیں کہ یہ ٹیکنالوجیز محفوظ ہیں۔

رسک کمیو نیکیشن  کا کیا مطلب ہے؟

وسیع تر مفہوم میں رسک کمیو نیکیشن ، رسک کی وضاحت کا عمل ہے۔ رسک کمیو نیکیشن  رسک انالیسیز  کے تین اجزاء میں سے ایک ہے، جو کہ یہ ہیں: رسک اسیسمنٹ ،رسک مینجمنٹ، رسک کمیو نیکیشن ۔ہم اس سبق کے آخر میں جائزہ لیں گے کہ ان اجزاء کا آپس میں کیا تعلق ہے۔ رسک کمیو نیکیشن  رسک کو سمجھنے ، اس پر اثر انداز ہونے،سہولت پیدا کرنے اور بہتری لانے والا ایک ٹول (Tool) ہے۔یہ رسک اسیسمنٹ کا ایک اہم حصہ ہے۔ سیاق و سباق اور حالات کے مطابق، رسک کمیو نیکیشن  کافی مختلف ہو سکتی ہے۔یہ ہوسکتا ہے کہ:

  • اس میں افراد کی مختلف تعداد شامل ہو سکتی ہے مثلاً ایک سے کئی ہزارتک
  • یہ غیر رسمی بھی ہو سکتی ہے، یاکافی رسمی اور منصوبہ بندی کے ساتھ
  • ایک طرفہ یا دو طرفہ ہو سکتی ہے
  • حفظِ ما تقدم کے طور پر بھی ہوسکتی ہے اور ردِّ عمل کے طور پر بھی
  • کسی ایک منفرد پیغام پر مبنی یا کئی متعلقہ پیغامات پر مشتمل ہوسکتی ہے
  • رسک کے بارے میں معلومات پر مشتمل تحریری ،زبانی یابصری پیغامات

Risk Analysis = Risk Communication + Risk Assessment + Risk Management 

رسک انالیسز = رسک کمیو نیکیشن +  رسک اسیسمنٹ +  رسک مینجمنٹ  

آپ پہلے اسباق سے رسک کی تکنیکی تعریف کو یاد کر سکتے ہیں " کسی واقعہ یا واقعات کے امکان کو نتائج کی سیریز جو کے کم خطرناک سے لے کر شدید ترین تک ہو سکتے ہیں سے ضرب دینا"

Risk = Probability x Consequences 

 رسک = امکان x نتائج  

البتہ عوام رسک کا تعین اس طریقے سے نہیں کرتی۔ اسکے بجائے وہ اپنی ذاتی معلومات اور تجربے کی بنیاد پر رسک کا اندازہ لگاتے ہیں۔عوام کے خیالات پر انکی ذاتی رائے اور انکے خیال میں انکے لیئے رسک کس حد تک مشکلات پیدا کر سکتا ہےبھی اثر انداز ہوتے ہے۔ رسک کمیو نیکیشن  کی حکمتِ عملی کی منصوبہ بندی کرتے وقت ان دونوں باتوں کے فرق پر غور کرنا ضروری ہے کے رسک کی تعریف کا تکنیکی مطلب کیا ہے اور عوام حقیقی طور پر رسک کا اندازہ کیسے لگاتی ہے ۔ آپکو عوام سے متعلق رسک کو کامیابی سے کمیونیکیٹ کرنے میں مدد دینے کی لیئے طریقے موجود ہیں ۔

کچھ مثالیں یہ ہیں:

  • "لوگوں کو ان کی ذات ،جائیداد،یا کمیونٹی کے لئے ممکنہ رسکس سے متعلق مطلع کرنے کا عمل۔ "(FEMA) 
  • "زیادہ دباؤ ، زیادہ تشویش ، اور تنازعہ کے حالات میں موثر طریقے سے سائنسی بنیاد پر کمیونیکیٹ کرنا۔"(کو ویلو، وی ۔ٹی۔ رسک کمیونیکشن سلائڈز(پاور پوائنٹ پریزنٹیشن) آن لائن ویب سائٹ http://www.centre4riskman.com/resources.html سے حاصل کیا)
  • "ان لوگوں کے درمیان معلومات و آراء اور مؤثر بات چیت کا تبادلہ جو کہ رسک کو اسیس کرنے، کم کرنے اور ریگولیٹ کرنے کے ذمہ دار ہیں اور وہ جو رسک سے متاثر ہو سکتے ہیں ۔"(BusinessDictionary.com)
  • "رسک کو اسیس کرنے والوں،رسک منیجرز،صارفین اور دیگر دلچسپی رکھنے والی جماعتوں کے درمیان رسک اور رسک سے متعلقہ عوامل کے بارے میں معلومات اور رائے کا تبادلہ۔"(FAO,۱۹۹۵)

پہلی دو تعریفیں " یہ ہیں حقائق" کے نقطہ نظر کو اجاگر کرتی ہیں اور عام طور پر ایک طرفہ نوعیت کی ہیں۔تیسری اور چوتھی تعریفوں میں معلومات کا دو طرفہ تبادلہ شامل ہے۔یہ آخری دو تعریفیں ایسے عوامل مثلاً رِسک کے بارے میں تاثر اور رِسک سے نمٹنے کی لاگت یا فائدے کے جائزہ پر روشنی ڈالتی ہیں۔

امریکہ میں بڑی صنعتوں اور ریگولیٹری ایجنسیوں کے لئے رسک کمیو نیکیشن کی تاریخ ۱۹۷۰ ء کی دہائی کے آخری سالوں میں شروع ہوئی۔ اس وقت جوہری اور کیمیائی صنعتیں اپنی صنعتوں کے رسکس کے بارے میں عوامی تشویش سے نمٹنے کے لئے کوشش کر رہی تھیں۔ ان صنعتوں سے متعلق لوگوں کا نقطہ نظر تھا کہ واضح اور قابلِ فہم معلومات عوام کو یہ قا ئل کرنے کے لیئے کافی ہے کہ یہ ٹیکنالوجیز محفوظ ہیں۔

آج بھی بہت سے لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ رسک کمیو نیکیشن  کا مطلب صرف معلومات کو قابلِ فہم بنانا ہے۔یہ خاص طور پر سائنسی اور تکنیکی شعبوں میں درست ہے۔تاہم رسک کمیو نیکیشن  کے اکثر ماہرین متفق ہیں کہ یہ نقطہ نظر کافی نہیں ہے۔

لوگوں کا رِسک کو سمجھنے اور کمیونیکیٹ کرنے پربہت سے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان میں یہ شامل کیے جاسکتے ہیں۔
  •   رِسک کے بارے میں انکا تائثر
  • ان تاثرات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے رویے
  • ہمارے ثقافتی اور نسلی پسِ منظر
  • ہمارے گذشتہ تجربات
  • ہمارے ذاتی جذبات، جبلت،اور زندگی کے حالات
رِسک کمیونیکیشن کا وہ طریقہ کار جو صرف حقائْق پیش کرتا ہو اور رِسک کے بارے میں ہمارے ذاتی تاثرات کا احاطہ نہیں کرتا نامکمل مانا جاتا ہے۔ اس ماڈیول کے سبق۲ میں اس پر ہم مزید بات چیت کریں گے۔

پیغام رساں (کمیونیکیٹر) کو ایسا پیغام دینا چاہئے جو دانش مندانہ انتخاب کرنے کی طرف لےجائے ،ہرکمیونیکیٹر کو اس مخصوص رسک کی نوعیت کو سمجھنا چاہیئے جس کے بارے میں وہ کمیونیکیٹ کرنے کی کوشش کر رہا یا کر رہی ہو۔ کسی بھی مخصوص صورتحال کیلئے کمیونیکیٹر کو یہ سمجھنا چاہئے:
  • کونسی معلومات کی اطلاع یا تبادلہ کی ضرورت ہے۔
  • کس کو مطلع کرنا ہے۔
  • موثر طریقے سے کس طرح پیغام پہنچایا جائے۔
  • کس نقطہ یا موقع پر رِسک کمیونیکیٹ کیا جائے۔
  • پیغام پہنچانے کے لئے کمیونیکیشن کے کون سے طریقے مناسب ہیں۔
رسک کمیو نیکیشن  کی مکمل تعریف مندرجہ ذیل ہے۔

وہ عوامل ،الفاظ اور باہمی تعامل جو لوگوں کے تائژات کا احترام کرتے ہیں اور اِنکا مقصد لوگوں کو اپنی صحت، حفاظت اورخیر خواہی کے بارے میں باخبر فیصلے کرنے میں مدد کرنا ہو۔
Ropeik, n.d

اس تعریف کا مطلب یہ ہے کہ رسک کمیو نیکیشن  کے بارے میں لوگوں کے رسک سے متعلق جذبات کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔یہ تعریف یہ بھی بتاتی ہے کہ رسک کمیو نیکیشن  اس صورت میں زیادہ موثر ہوگی جب اس میں ہدایات کی بجائے بات چیت کو مدِنظر رکھا جائے۔سامعین کو قائل کرنے کے لئے صرف معلومات ہی کافی نہیں ہو سکتیں۔ کمیونیکیٹرز کو لوگوں کی توقعات کے بارے میں محتاط رہنا ہوگا۔سامعین شائد اس طرح نہ سوچ سکیں جس طرح کمیونیکیٹر چاہتے ہیں۔ کمیونیکیشن لوگوں کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے، بات چیت کی صورت میں ہونی چاہیے۔یہ طریقہ کار عصبی سائنس اور نفسیات کے شعبوں کے نتائج کو تسلیم کرتا ہے۔ان تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ رِسک کے بارے میں تائثر حقیقت اور احساسات دونوں سے مل کربنتا ہے۔ ہم اپنے پاس موجود حقائق اور اپنے احساسات کو یہ اندازہ لگانے کے لیئے استعمال کرتے ہیں کے کوئی چیز ہمیں کتنی رِسکی محسوس ہوتی ہے۔
پیسٹ کے رسک انالیسیز  میں رسک اسیسمنٹ،رسک مینجمنٹ اور رسک کمیو نیکیشن  کے درمیان کیا تعلق ہے؟
نیچے دی گئی تصویر اس تعلق کی اچھی نمائندگی کرتی ہے۔

Image

پیسٹ کی رسک اسیسمنٹ سائنسی بنیاد پر ہوتی ہے،اور سائنسی حقائق کو رسک کے مناسب تناظر میں رکھنے کے لئے تجزیاتی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔پیسٹ کی رِسک مینجمنٹ کے لیئے بھی سائنس اور ریگولیٹری پالیسی کے علم کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کے برعکس ،رسک کمیو نیکیشن  تکنیکی،سائنسی اور پالیسی کے پیغامات پر مشتمل ہو سکتی ہے۔پیغام کی تشکیل اور فراہمی کے لیئے بہت سے شعبوں کے علم کی ضرورت ہے۔

رِسک کمیونیکیشن صرف چند لوگوں مثلاً رِسک اَسَیسرز اور رِسک مینجرز کے درمیان ہو سکتی ہے۔ اور یہ بڑے گروپس کے لیئے بھی ہو سکتی ہے مثلاً گاہکوں سے رابطے کی مہمات۔ رسک کمیونیکیشن کے لیئے بہترین پریکٹسیز استعمال کرنی چاہیئے (مزید معلومات کے لیئے سبق ۴ کا موضوع۴ دیکھئے) ۔ تاہم، اندرونی رابطہ غیر رسمی اور بہت تکنیکی ہوتے ہوئے بھی موثر ہو سکتا ہے۔بڑے گروپوں کے ساتھ رسک کمیو نیکیشن  بہت زیادہ پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
رِسک کمیونیکیشن، رِسک کو سمجھنے ، اس پر اثر انداز ہونے ،سہولت پیدا کرنے اور بہتری لانے کی وضاحت کا عمل ہے۔ اس میں وہ عوامل،الفاظ اور دوسرے باہمی تعامل شامل ہوتے ہیں جو لوگوں کی صحت،حفاظت اور خیر خواہی کو رسکس سے متعلق زیادہ باخبر فیصلے کرنے میں مدد دینے کو مدِنظر رکھتے ہیں۔

جاری رکھنے کے لئے اوپر دیے گئے موضوعات کی فہرست میں سےموضوع  ۲  کا انتخاب کریں یا یہاں کلک کریں۔